ایشیا · خبریں ·
انڈونیشیا کے صدر نے جنگلاتی آگ اور دھند کے بحران کے دوران سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا
صدر پرابوو سوبیانتو نے آگ سے زمین صاف کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے خلاف مضبوط قوانین اور سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔ انڈونیشیا ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بدترین آگ کے موسموں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
آگ جنگلات اور پیٹ کی زمین کو تباہ، سانس کے خطرات میں اضافہ، پروازوں میں خلل اور سرحد پار آلودگی پھیلا رہی ہے۔ مجوزہ سزائیں ابھی مکمل نافذ نیا قانون نہیں ہیں۔
مکمل خبر پڑھیں
Reuters نے 17 ستمبر کو بتایا کہ پرابوو نے پارلیمان سے قانون مضبوط اور زمین جلانے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جان بوجھ کر آگ لگانے کو ‘ماحولیاتی دہشت گردی’ کہا۔
پولیس کے مطابق 219 فوجداری تحقیقات شروع ہوئیں، 162 مشتبہ افراد نامزد ہوئے اور 95 کمپنیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ تحقیقاتی اعداد ہیں، عدالتی سزائیں نہیں۔
سرکاری اعداد کے مطابق جنوری سے جولائی تک تقریباً 202,000 ہیکٹر جل گیا۔ AP نے پونتیانک میں حد نگاہ ایک کلومیٹر سے کم، پروازیں متاثر اور دھواں ملائیشیا و سنگاپور تک پہنچنے کی اطلاع دی۔
پانی گرانے اور بادلوں میں بارش کے لیے 50 سے زیادہ طیارے استعمال ہو رہے ہیں اور جاپان نے ہیلی کاپٹر مدد دی ہے۔ پیٹ کی آگ زیر زمین دیر تک سلگ سکتی ہے؛ مقامی ہوا اور صحت کی ہدایات پر عمل کریں۔

قارئین کے تبصرے
اس خبر پر اپنی رائے دیں
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…