امریکا · کینیڈا–یورپی یونین تعلقات ·
ٹرمپ نے کہا کینیڈا-یورپی یونین ایسوسی ایٹ حیثیت ‘مخالفانہ اقدام’ ہو سکتی ہے، یورپ پر بھاری محصولات کی دھمکی
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ رکن بنانے کی تجویز امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ہو تو اسے مخالفانہ اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ ابھی کوئی نیا محصول نافذ نہیں ہوا اور کینیڈا کو یہ حیثیت نہیں ملی۔
یہ کیوں اہم ہے
کینیڈا اور یورپی یونین کی قربت اب واشنگٹن، اوٹاوا اور برسلز کے تجارتی تناؤ میں نیا عنصر ہے اور مستقبل میں بحرِ اوقیانوس کے آرپار سپلائی چینز کو متاثر کر سکتی ہے۔
مکمل خبر پڑھیں
ٹرمپ نے 16 ستمبر کو شارلٹ، نارتھ کیرولائنا میں خیال کو ‘مضحکہ خیز’ کہا اور بتایا کہ ردعمل یورپی رہنماؤں کی نیت پر منحصر ہوگا۔
انہوں نے کہا اچھی نیت قابل قبول ہوگی، مگر بری نیت کی صورت میں یورپ پر بہت بھاری محصولات یا بعض تجارت روکنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کینیڈا کی تجارتی پالیسی پر بھی تنقید کی۔
یہ بیان ارسلا فان ڈیر لائن کی طرف سے کینیڈا کے لیے پہلے ایسوسی ایٹ رکن کا دروازہ کھولنے اور ٹیکنالوجی، توانائی، اہم معدنیات، دفاع اور آرکٹک تعاون بڑھانے کی تجویز کے بعد آیا۔
یہ حیثیت ابھی صرف ایک تجویز ہے اور کوئی قائم قانونی ڈھانچہ موجود نہیں۔ یورپی یونین کے ممالک کی منظوری درکار ہوگی؛ کینیڈا ابھی رکن نہیں ہے۔
دھمکی مشروط ہے اور واشنگٹن نے اس تجویز کی وجہ سے یورپی یونین پر کوئی نیا محصول نافذ نہیں کیا۔

قارئین کے تبصرے
اس خبر پر اپنی رائے دیں
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…