N環球 N GLOBE
دنیا · مشرق وسطی

ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملہ، 12 ہلاک، 309 زخمی ہوائی اڈے بند

· N GLOBE

سعودی سول ایوی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ 10 اکتوبر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر میزائل گرا، جس میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔ تمام آپریشنز معطل اور سینکڑوں پروازیں منسوخ یا موڑ دی گئیں۔ امریکی، کینیڈین، جرمن اور ہسپانوی سفارت خانوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ ہوائی اڈے سے گریز کریں۔ ٹرمپ نے حملے کو 'قابل قبول' قرار دیا اور ایران اور حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو مسترد نہیں کیا۔

یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے۔

ہفتہ 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر ایک میزائل گرا، جس میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔ ہوائی اڈے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور سیکڑوں پروازیں منسوخ یا موڑ دی گئیں۔ فروری میں ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں مملکت میں سب سے مہلک حملہ ہے اور خلیجی عرب ملک میں سب سے مہلک حملہ ہے۔

ہلاکتیں اور منظر

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے تصدیق کی ہے کہ 12 ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی اور امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ متعدد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ یہ میزائل گھریلو پروازوں کے لیے استعمال ہونے والے ٹرمینل 3/4 کمپلیکس سے ٹکرا گیا۔ متعدد آؤٹ لیٹس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمینل 3 کی چھت کے کچھ حصے اندر موجود لوگوں پر گر گئے۔

کس پر الزام ہے۔

اس حملے کا الزام یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک پر لگایا جاتا ہے۔ حوثیوں نے پہلے ہی جمعرات (8 اکتوبر) کو اسی ہوائی اڈے پر حملے کا دعویٰ کیا تھا لیکن فوری طور پر اس کا دعویٰ نہیں کیا۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے حملے کی مذمت کی اور جواب دینے کا وعدہ کیا۔ سعودی عرب نے ہفتے کے روز یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں بشمول صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے خلاف حملوں کی تازہ لہر کا آغاز کیا۔

امریکی ردعمل

صدر ٹرمپ نے حملے کو 'قابل قبول نہیں' قرار دیا اور کہا کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کریں گے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا امریکہ حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شامل ہو گا، انہوں نے کہا: 'ہم کر سکتے ہیں۔ ... ہم بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔' مبینہ طور پر واشنگٹن ایران پر نئے حملوں اور حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ ریاض میں امریکی، کینیڈین، جرمن اور ہسپانوی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے اور آس پاس کے علاقوں سے گریز کریں۔

پس منظر

اس ہفتے ہوائی اڈے پر یہ تیسرا حملہ تھا: جمعرات کے بیلسٹک میزائل حملے میں ایک سعودی پائلٹ سمیت تین سعودی ہلاک ہوئے اور سعودی طیارے کو نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے ابھا ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں دو خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔ رواں ہفتے سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

💬 Comments

No comments yet. Be the first!